حدیث نمبر: 9844
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي عَيْنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ تم ایسے اعمال بھی سرانجام دے رہے ہوجو تمہارے نزدیک بال سے بھی زیادہ باریک ہیں(یعنی تم ان کو نہایت معمولی سمجھتے ہو) حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم ان کو ہلاک کردینے والے امور میں شمار کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … موجودہ دور میں لوگوں کی تربیت میں آڑے آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان کو نیکی اور برائی کی صورتوں کا علم ہی نہیں تاکہ وہ نیکیاں کر سکیں اور برائیوں سے بچ سکیں۔ مثلا بے پردگی، تنگ لباس، موسیقی، تہمت بازی، دو رُخا پن، چغلی و غیبت، مکرو فریب، جھوٹ، تمباکو نوشی، شیو کرنا، مردوں کا شلوار اور تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، داڑھی تراشنا، خط کروانا، چہرے سے بال اکھاڑنا، لمبی لمبی مونچھیں رکھنا، ہمسائیوں کو تنگ کرنا، اپنے آپ کو نیک و برتر سمجھنا اور دوسروں کو گھٹیا و کم تر سمجھنا، بے صبری، قطع رحمی، ناراضگی، حد سے زیادہ گپ شپ، حلال و حرام کی تمیز نہ کرنا، تلاوت سے دوری، عورتوں کا تھریڈنگ کرنا، مصنوعی ناخن لگانا، جوڑے باندھنا، وگ لگانا، سلام کا اہتمام نہ کرنا، تصویریں بنوانا۔ وغیرہ وغیرہ۔ ماحصل یہ ہے کہ ہر مسلمان آخرت کی فکر کرے اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کر کے اپنا مقام سمجھے اور اپنی منزل مقرر کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9844
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11008»