الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ احْتِقَارِ الذُنُوبِ الصَّغِيْرَةِ باب: صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9843
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے بچتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کرنے والا (فرشتہ) ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … مومنانہ تہذیبیہ ہے کہ کسی نیکی کو حقیر سمجھ کر ترک نہ کیا جائے اور کسی برائی کو معمولی تصور کر کے اس کا ارتکاب نہ کیا جائے، کیونکہ پوری زندگی کی معمولی معمولی غفلتیں اور سستیاں انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں۔