حدیث نمبر: 9833
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَا مِنْ مُعَمَّرٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ الْجُنُونُ وَالْجُذَامُ وَالْبَرَصُ فَإِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً أَحَبَّهُ اللَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ قَبِلَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَشُفِّعَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اسلام کی چالیس سال عمر دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی بیماریاں دور کر دیتا ہے، جنون، کوڑھ اور پھلبہری، جب آدمی پچاس سال تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر حساب کو آسان کر دیتا ہے، جب اس کی عمر ساٹھ برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پسند کے مطابق اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق دیتا ہے، پھر جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کر لیتا ہے اور اس کی برائیوں سے تجاوز کر دیتا ہے، پھر جب اس کی عمر نوے برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کا یہ نام رکھ دیا ہے کہ فلاں آدمی زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہے اور اس کے گھر والوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9833
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، فرج بن فضالة ضعيف، محمد بن عامر لم نعرف من ھو، محمد بن عبد الله ضعيف، أخرجه البزار: 3587، وابويعلي: 4246 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5626»