الفتح الربانی
كتاب التيمم— تیمم کے ابواب
بَابٌ فِي سَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ التَّيَمُّمِ وَصِفَتِهِ باب: تیمم کی مشروعیت کے سبب اور اس کے طریقے کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى وَعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَقَدْ أَجْنَبَ شَهْرًا أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ؟ قَالَ: لَا، وَلَوْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا (فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ) قَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ؟ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ مَسَحَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِصَاحِبَتِهَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ (وَفِيهِ) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً: قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى الْكَفَّيْنِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ))۔ (دوسری سند) شقیق کہتے ہیں: میں سیدنا ابو موسی ؓاور سیدنا عبد اللہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی کو (غسل کے لیے) پانی نہیں ملتا، جبکہ وہ ایک مہینہ سے جنبی ہے، کیا وہ تیمم نہیں کرے گا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اگرچہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔ پھر سابق حدیث کی مانند حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: کیا آپ نے سیدنا عمار ؓکی بات نہیں سنی؟ وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کے لیے بھیجا، پس میں جنبی ہو گیا اور غسل کے لیے پانی نہ ملا، پس میں جانور کی طرح مٹی میں لیٹا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے تو یہ کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ہر ہاتھ کو دوسرے پر پھیرا اور دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیا۔ اس میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: ایک دفعہ ابو معاویہ نے یہ طریقہ یوں بیان کیا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور دائیں کو بائیں پر ہتھیلیوں پر پھیرا اور پھر اپنے چہرے پر پھیر لیا۔