حدیث نمبر: 9828
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَذَلِكَ أَمَلُهُ الَّتِي رَمَى بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین کنکریاں لیں، ان میں ایک کو نیچے رکھا، دوسری کو اپنے سامنے رکھا اور تیسری کو پھینک دیا اور پھر فرمایا: یہ ابن آدم ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ اس کی موت پڑی ہوئی ہے اور جس کنکری کو پھینک دیا گیا ہے، وہ اس کی امیدیں ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آدمی جس وقت سے گزر رہا ہے، اس کے جائز تقاضوں کے مطابق کوشش کرے اور محنت جاری رکھے اور اسلامی تعلیمات کے تقاضے متاثر نہ ہونے دے، وگرنہ برکت اٹھ جائے گی۔
ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان کا اصل سرمایہ دین ہے، مال و دولت اور حکومت و مملکت تو کافروں کو بھی مل جاتے ہیں، ہاں ہاں مسلم مملکت بلکہ خلافت کا قیام ضروری ہے، فوج، پولیس، سائنسدان، انجینیئر، ڈاکٹر، فیکٹریاں، صنعتیں، تعلیمی ادارے، وغیرہ وغیرہ … عصر حاضر کے مطابق ان سب چیزوں کا اہتمام ضروری ہے، لیکنیہ سب امور وقت کی ضرورت کے مطابق ہیں، اصل سرمایہ دین ہے، باقی سب فروعات ہیں، مجبوری میں فروعات کے بغیر گزارہ ممکن ہے، اصل کے بغیرگزارہ نہیں ہو سکتا ہے، وگرنہ دائمی زندگی کا خسارہ لازم آئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9828
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13831»