حدیث نمبر: 9824
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخُطُوطًا إِلَى جَنْبِ الْخَطِّ الَّذِي وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ الْخَطُّ الْأَوْسَطُ وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الَّتِي جَنْبَهُ الْأَعْرَاضُ تَنْهَشُهُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ إِنْ أَخْطَأَ هَذَا أَصَابَهُ هَذَا وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ الْأَجَلُ الْمُحِيطُ بِهِ وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الْأَمَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکیریں لگا کر ایک مربع شکل بنائی، اس شکل کے درمیان میں ایک خط لگایا اور پھر اس کے ساتھ اور شکل کے اندر ہی کئی لکیریں لگائی اور ایک لکیر اس مربع کے باہر لگائی اور پھر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درمیان میں لگی ہوئی یہ لکیر انسان ہے، اس کے ساتھ لگی ہوئییہ لکیریںبیماریاں ہیں، جو اس کو ہر مقام پر نوچنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر ایک اپنے نشانے سے گھس جاتی ہے تو دوسری لگ جاتی ہے،یہ مربع شکل میں لگے ہوئے خطوط انسان کی موت ہے، جو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس شکل سے باہر لگی ہوئی لکیر انسان کی امید ہے ۔

وضاحت:
فوائد: … آدمی کو قناعت پسند ہونا چاہیے، محنت مزدوری کے بعد جو مل جائے اس پر صابر اور شاکر رہے اور بیشک مزید کی کوشش کرے، دنیوی تعلیم حاصل کرے، اچھی نوکری کے لیے تگ و دو کرے، لیکن دینی تعلیمات اور اسلامی حدود کا پابند بن کر۔ ایسی حرص اور لالچ غالب نہ آجائے کہ بس دنیا کی بہتری ہی کی فکرکا ہو کر رہ جائے۔
دو تین مثالوں پر غور کریں: آج کل بچوں کی دنیوی تعلیم پر انتہائی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سے متعلقہ تمام تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں، لیکن دین کے معاملے میں انتہائی غفلت برتی جا رہی ہے اور اس کا ایک تقاضا بھی پورا نہیں کیا جا رہا، مسلمان بچے کا والدین پر عائد ہونے والا سب سے بڑا فرض نماز کی تعلیم دینا ہے، لیکن افسوس کہ تمام والدین نہ صرف اس فرض کی ادائیگی سے غافل ہیں، بلکہ سرے سے ان کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ کاروبار میں عملی طور پر اضافہ کرتے ہیں، کوٹھیاں بنا رہے ہیں، گاڑیاں خرید رہے ہیں، لیکن جب ان سے حج اور عمرے جیسی ذمہ داری کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں جی ہم پر بڑی ذمہ داریاں ہیں، بچوں کی شادیاں کرنی ہیں، فلاں بھتیجا، فلاں بھانجی کا خرچ بھی ہمارے ذمے ہے۔ ایسے والدین اور کاروباری،یہ سب شریعت کے چور ہیں۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ دین اور دنیا دونوںکے بارے میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرے، وہ کمائی کرے، لیکن
آمدنی کے تقاضوں کو بھی ذہن نشین رکھے، اپنی اولاد کے لیے دنیوی تعلیم کی کوشش کرے، لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اولاد کے بارے میں دین کی فکر نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9824
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6417 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3652»