حدیث نمبر: 9816
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں اس چیز کی بھی تلاوت کرتے تھے: اگر ابن آدم کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش شروع کر دے گا، بس مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … انسان ہمیشہ مزید کی تلاش میں رہتا ہے اور قناعت نہیں کرتا، اگر دنیوی وسیع رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خوف اور پرہیزگاری ملی ہوئی ہو اور مال و دولت کے شرعی تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہو تو پھر غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۳۱)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9816
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 5032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19495»