الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الْمَالِ باب: مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 9812
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کو اس طرح کی ایک اور وادی مل جائے اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کے نفس کو بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ آیایہ قرآن مجید کا حصہ ہے یا نہیں۔