الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغِنَى مَعَ الْحِرْصِ باب: اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
حدیث نمبر: 9808
عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا قَالَ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاگیر بنانے کا اہتمام نہ کرو، وگرنہ دنیا کی رغبت میں پڑ جاؤ گے۔ پھر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: براذان، کیا ہے براذان؟ مدینہ، کیا ہے مدینہ؟
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ کوئی مسلمان مال و دولت کی کثرت کی خاطر اس قدر مصروف نہ ہو جائے کہ امورِ دین سے ہی غافل ہو جائے، جیسا کہ اکثر مال داروں کو دیکھا گیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حدیث کے آخر میں یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ انھوں نے خود تو دو جائدادیں بنا لی ہیں، ایک مدینہ میں ہے اور ایک براذان ہے۔