حدیث نمبر: 9807
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ وَمَا أَخْشَى الْخَطَأَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر فقیری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ کثرت کی طلب کا ڈر ہے، اور مجھے بغیر ارادے کے غلطی کر جانے کا ڈر نہیں ہے، بلکہ تمہارے بارے میں جان بوجھ کر نافرمانی کرنے کا ڈر ہے۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ فقر کی مضرّت، غِنٰی کی مضرّ ت سے کم ہے، کیونکہ فقر کی تکلیف کا تعلق دنیا سے ہے اور غِنٰی اکثر و بیشتر دین کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {کَلَّا ٓ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی۔ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی} … ہر گز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی وہ ہوگیا ہے۔ (سورۂ علق: ۶، ۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9807
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 2/534، وابن حبان: 3222 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8060»