حدیث نمبر: 9803
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُوشِكُ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكْعُ بْنُ لُكَعٍ وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَتَيْنِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ایک صحابی ٔرسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ دنیا پر کوئی انتہائی کمینہ بن کمینہ آدمی غالب آجائے، اور اس وقت لوگوں میں افضل وہ مومن ہو گا، جو دو کریموں کے درمیان ہو گا ۔

وضاحت:
فوائد: … لکع بن لکع (کمینہ بن کمینہ) سے مراد وہ شخص ہے، جو ردی اور گھٹیا نسب والا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہو جس کا نسب غیر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف نہ کرتے ہوں۔
دو کریموں سے کیا مراد ہے؟ (۱)اس مومن کے ماں باپ کا مسلمان ہونا، یا (۲) اس کے باپ اور بیٹے کا
مسلمان ہونا ہے، یا (۳) دو کریموں سے مراد دو عمدہ قسم کے گھوڑے ہیں، جن پر وہ مومن سوار ہو کر جہاد کرے گا۔ پہلے دونوں معنوں میں کریم سے مراد گناہ کی پلیدی سے یا کفر و شرک کی نجاست سے پاک رہنے والا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9803
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 2051 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24051»