حدیث نمبر: 9802
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَّخِذُ أَحَدُكُمُ السَّائِمَةَ فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَأُ مِنْ هَذَا فَيَتَحَوَّلُ وَلَا يَشْهَدُ إِلَّا الْجُمُعَةَ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَأُ مِنْ هَذَا فَيَتَحَوَّلُ فَلَا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَلَا الْجَمَاعَةَ فَيُطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے مویشی پالتاہے اور نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے مویشی اس کے لیے مشکل پیدا کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے مویشیوں کے لیے زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور دور ہو جانے کی وجہ سے صرف نمازِ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے، لیکن اس مقام پر بھی اس کے مویشی اس کے لیے مشقت پیدا کر دیتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے: اگر میں اس مقام کی بہ نسبت زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے بھی منتقل ہو جاتا اور اتنا دور ہو جاتا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے نہیں آتا اور نہ جماعت میں حاضر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ جوں جوں مال بڑھتا ہے، آدمی توں توں خیر سے دور ہوتا رہتا ہے، اکثریت کا حال یہی ہے، الا ما شاء اللہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9802
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عمر مولي غفرة، أخرجه الطبراني في الكبير : 3229، 3230 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24078»