الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغِنَى مَعَ الْحِرْصِ باب: اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
حدیث نمبر: 9801
عَنِ ابْنِ حَصْبَةَ أَوْ أَبِي حَصْبَةَ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ قَالُوا الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الصُّعْلُوكُ الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔