حدیث نمبر: 9800
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ} [الأنعام: 44]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آپ دیکھیں کہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لیں کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جارہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے،یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ (سورۂ انعام: ۴۴)۔

وضاحت:
فوائد: … ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس حدیث کی روشنی میں اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی قابل قدر نعمتیں اس کے لیے وبال کے اسباب پیدا کر دیں۔ صرف مال و دولت سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا پتہ نہیں چلتا، بلکہ اعمالِ صالحہ سے اس چیزکا اندازہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9800
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17444»