حدیث نمبر: 9790
عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً وَقَالَ مَرَّةً أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنِ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان (کی غیبت یا اس کی توہین یا اس کو اذیت پہنچا کر) کوئی لقمہ کھایا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی طرح کا لقمہ جہنم سے کھلائے گا، جس نے کسی مسلمان (کی اہانت کرنے کا) لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی مثل کا لباس جہنم سے پہنائے گا اور جو آدمی کسی آدمی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت والے دن شہرت کے مقام پر کھڑا کریں گے۔

وضاحت:
فوائد: … ابن اثیر نے النھایۃ میں پہلے دو جملوں کا مفہوم یہ بیان کیا: ایک آدمی کسی کا دوست بنتا ہے، پھر وہ اس کے دشمن کے پاس جا کر اسی دوست پر عیب جوئی کرتا ہے، تاکہ وہ اس بنا پر اس کو کوئی انعام وغیرہ دے کر دنیوی فائدہ پہنچائے۔ جو آدمی کسی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، اس کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی مال و منال اور جاہ و حشمت والے لوگوںمیں کوئی مقام بنا کر تقوی و صلاحیت کا اظہار کرے، تاکہ اسے بھی مال مل جائے اور اس کا مرتبہ بھی بلند ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9790
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4881 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18174»