الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَرْهِيبِ مِنَ الْحَسَدِ وَالْبَغْضَاءِ وَالْغَش باب: حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9777
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ حَالِقَةُ الدِّينِ لَا حَالِقَةُ الشَّعْرِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے والی امتوں کی بیماری تمہارے اندر بھی سرایت کر گئی ہے، یعنی حسد اور بغض، یہ بیماری مونڈ دینے والی ہے، دین کو، سر کو نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! تم اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گے، جب تک آپس میں محبت نہیں کرو گے، کیا میں تمہیں ایسی چیز بتا دوں کہ اگر اس پر عمل کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے، آپس میں سلام کو عام کرو۔
وضاحت:
فوائد: … کسی شخص کا دوسرے کی خوش حالی پر جلنا اور یہ تمنا کرنا کہ اس کی نعمت و خوشحالی ختم ہو جائے اور وہ اسے مل جائے حسد کہلاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے حسد سے منع فرمایا ہے، بلکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدََ یَاْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ۔)) … حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
(ابوداود، وفیہ راوٍ مجہول، لکن لہ شاہد عن انس عند ابن ماجہ وفیہ عیسی بن ابی عیسی ضعیف)
حسد ایک قبیح وصف ہے جس سے بغض، کینہ، کدورت، باہمی دشمنی اور قطع تعلقی جیسی صفات ِ بد جنم لیتی ہیں۔ خود حسد کرنے والا ذہنی اذیت اور قلبی بے سکونی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلم معاشرہ میں شرّ و فساد جنم لیتا ہے اور لوگ خیر و بھلائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دراصل حسد، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پرراضی نہ ہونے کی ایک صورت ہے، کیونکہ ہم کسی آدمی سے اس کی جن خوبیوں اور اہلیتوں کی بنا پر حسد کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہوتی ہیں، لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو کر کسی کے بارے میں یہ تمنائے بد نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اپنی خوبیوں سے محروم ہو جائے۔
(ابوداود، وفیہ راوٍ مجہول، لکن لہ شاہد عن انس عند ابن ماجہ وفیہ عیسی بن ابی عیسی ضعیف)
حسد ایک قبیح وصف ہے جس سے بغض، کینہ، کدورت، باہمی دشمنی اور قطع تعلقی جیسی صفات ِ بد جنم لیتی ہیں۔ خود حسد کرنے والا ذہنی اذیت اور قلبی بے سکونی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلم معاشرہ میں شرّ و فساد جنم لیتا ہے اور لوگ خیر و بھلائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دراصل حسد، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پرراضی نہ ہونے کی ایک صورت ہے، کیونکہ ہم کسی آدمی سے اس کی جن خوبیوں اور اہلیتوں کی بنا پر حسد کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہوتی ہیں، لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو کر کسی کے بارے میں یہ تمنائے بد نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اپنی خوبیوں سے محروم ہو جائے۔