الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْتَرْهِيْبِ مِنَ الظُّلْمِ وَالْبَاطِلِ والاعانة عَلَيْهما باب: ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9776
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتُفْتَحُ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان تین افراد کی دعا ردّ نہیں جاتی: عادل حکمران، روزے دار جب افطاری کرے اور مظلوم کی دعا تو بادلوں پر اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم! میں ضرور ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی ہو۔