حدیث نمبر: 9772
عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبِي وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ قَالَ ((لَا وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عباد بن کثیر شامی، جو کہ فلسطین کا ایک باشندہ تھا، اپنے خاندان کی فسیلہ نامی ایک خاتون سے روایت کرتا ہے، اس نے اپنے باپ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدمی کا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت میں سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عصبیت تو یہ ہے کہ بندہ ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔

وضاحت:
فوائد: … اسلام نے حکم دیا ہے کہ رشتہ داروں سے محبت کی جائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور عصبیت سے بچے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9772
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 5119، وابن ماجه: 3949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17114»