حدیث نمبر: 9771
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ كَانَتْ يَعْنِي عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ لَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال یا عزت پر ظلم کر رکھا ہو تو وہ اس کے پاس جا کر تصفیہ کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آجائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر دنیا میں کی گئیں دست درازیاں دنیا میں ہی معاف نہ کروا لی گئیںیا ان کی تلافی نہ کر دی گئی تو آخرت میں ان کا معاملہ نہایت خطرناک ہو گا، لیکن ہمارے ماحول میں حقوق العباد کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، جو کہ باعث ِ ہلاکت امر ہے۔ ہمارے ہاں انسان کو بحیثیت انسان نہیں دیکھا جاتا، بلکہ کسی سے حسنِ سلوک یا بد سلوکی کرنے کے لیےرشتوں اور دوستیوں کا تعین کیا جاتا ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا سرے سے انسان کا امتیاز ہی نہیں ہے۔ یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9771
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9613»