حدیث نمبر: 9769
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنَ الشِّرْكِ) أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو رسوا کرتا ہے اور نہ اس کو حقیر سمجھتا ہے، تقوییہاں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا اور تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، آدمی کو یہی شرّ (یا شرک) کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے ہر مسلمان پر حرام ہے ۔

وضاحت:
فوائد: … بیع نجش: وہ بیع ہوتی ہے، جس میں لوگ بڑھ چڑھ کر بولی لگاتے ہیں اور اشیاء کی قدرو قیمت بتانے میں مبالغہ اور فریب سے کام لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9769
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2564 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7713»