الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغَدْرِ وَنَقْضِ الْعَنْهِدِ وَعَدْمِ الْوَفَاءِ بِهِ باب: دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9765
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ فَلَمَّا عَرَفْتُ كَذِبَهُ هَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) میں مختارکا پہرہ دیتا تھا، جب میں نے پہچان لیا کہ یہ جھوٹا ہے تو میں نے ارادہ کیا کہ اپنی تلوار سونتوں اور اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی، سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی کو اپنی جان پر امن والا بنایا، لیکن اس نے اس کو قتل کر دیا تو قیامت والے دن اس کو دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔