الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغَدْرِ وَنَقْضِ الْعَنْهِدِ وَعَدْمِ الْوَفَاءِ بِهِ باب: دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9764
عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً وَقَالَ لَوْ لَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ رفاعہ قتبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا،اس نے میرے لیے تکیہ رکھا اور کہا: اگر میرا بھائی جبریل اس سے کھڑا نہ ہوا ہوتا تو میں نے اس کو تیرے لیے رکھنا تھا، یہ بات سن کر میں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی، میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی مؤمن کو اپنے خون پر امین بنائے اور پھر وہ اس کو قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔