الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغَدْرِ وَنَقْضِ الْعَنْهِدِ وَعَدْمِ الْوَفَاءِ بِهِ باب: دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9758
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،وہ کہتے ہیں: نبی کریم جب بھی ہم سے خطاب کرتے تھے تو اس میں یہ فرماتے تھے: اس آدمی کا ایمان نہیں، جس کی امانت نہیں اور اس آدمی کا دین نہیں، جس کا عہد وپیمان کوئی نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … خیانت کرنا بہت بڑا جرم ہے، یہ قبیح عمل منافق کی صفت ہے، ایمان کے ساتھ خیانت کا کوئی سمجھوتہ نہیں، آدمی جس چیز کی خیانت کرے گا وہ قیامت والے دن اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے گا۔ وہ کیسا منظر ہو گا کہ آدمی کی پیٹھ پر اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ لدے ہوئے ہوں گے اور وہ اپنی طبعی آواز نکال رہے ہوں گے۔
آجکل حکومتی عہدیدار بالعموم اور سیاسی لیڈر بالخصوص قومی خزانوں کو لوٹنا اپنا ذاتی حق سمجھتے ہیں اور وہ سرے سے حلت و حرمت میں تمیز کرنے سے قاصر ہیں، زکوۃ کمیٹیوں کی رقم حقداروںمیں نہیں، بلکہ قرابتداروں یایاروں میں بانٹی جاتی ہیں اور عوام الناس کی اکثریت کو جہاں اور جس انداز میں موقع ملتا ہے، وہ شکار ضائع نہیں جانے دیتے، وہ سرکاری اداروں کا مال چوری کرنے کی صورت میں ہو یا سرکاری جگہ پر قبضہ جمانے کی صورت میں۔ یہ سب خیانتیں ہیں۔ جن کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
آجکل حکومتی عہدیدار بالعموم اور سیاسی لیڈر بالخصوص قومی خزانوں کو لوٹنا اپنا ذاتی حق سمجھتے ہیں اور وہ سرے سے حلت و حرمت میں تمیز کرنے سے قاصر ہیں، زکوۃ کمیٹیوں کی رقم حقداروںمیں نہیں، بلکہ قرابتداروں یایاروں میں بانٹی جاتی ہیں اور عوام الناس کی اکثریت کو جہاں اور جس انداز میں موقع ملتا ہے، وہ شکار ضائع نہیں جانے دیتے، وہ سرکاری اداروں کا مال چوری کرنے کی صورت میں ہو یا سرکاری جگہ پر قبضہ جمانے کی صورت میں۔ یہ سب خیانتیں ہیں۔ جن کی سزا بھگتنی پڑے گی۔