حدیث نمبر: 9753
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ (وَفِي لَفْظٍ عَلَى أُمَّتِي) كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں عمر رضی اللہ عنہ کے منبر کے پاس تھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر اس منافق کا ہے، جوزبان آور ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں کہ خطاب میں جادو کی سی تاثیر پائی جاتی ہے اور بعض لوگ اپنے اندازِ خطابت کے زور پر لوگوں میں اتنی مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کی ہر بات کو حجت سمجھا جانے لگتا ہے۔ ایسے میں مومن کو دلائل کا سہارا لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کیخصلت ِ بد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِئُ وْنَ۔} (سورۂ بقرہ: ۱۴) … اور جب (یہ منافق) ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو ان (مسلمانوں) سے صرف مذاق کرتے ہیں۔
اب جو منافق جتنا زبان آور، چرب لسان، زبان دراز، خوشامدی، زبان کے داؤ پیچ جاننے والا اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے والا ہو گا، وہ اتنا ہی مسلمانوں کے سامنے ان کا وفادار بن کر ان کو نقصان پہنچائے گا اور ان کے رازدارانہ امور ان کے دشمنوں تک پہنچا دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9753
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه البزار: 305 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 310»