حدیث نمبر: 9749
وَعَنْهُ أَيْضًا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا، جو ایک رخ کے ساتھ اِن کے پاس آتا ہے اور ایک رخ کے ساتھ اُن کے پاس جاتا ہے ۔

وضاحت:
فوائد: … دورخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے باور کرائے کہ وہ اس کا خیرخواہ اور اس کے حق میں مخلص ہے اور دوسرے کا مخالف، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو وہاں ان کے لیے باوفا ہونے کا تاثر دے۔ یہ بدترین شخص ہے، ایسا شخص جھوٹا ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں ہی اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔
اِن کے سامنے اِن کا دوست اور اُن کا دشمن اور اُن کے پاس اُن کا دوست اور اِن کا دشمن۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا شخص امانتدار نہیں ہو سکتا ہے، امانتدار بننے کے لیے تو اپنوں کے لحاظ اور غیروں کے عدم لحاظ کو بھی بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے امین ہونے کی وجہ سے ایسا شخص آپ کے پاس امانت رکھ دے، جس کو آپ کے بڑے، دشمن سمجھتے ہوں۔ لیکن دو رخا آدمی ایسی ذمہ داری ادا کرنے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
مومن کو متنبہ رہنا چاہئے کہ وہ مستقل مزاج ہوتا ہے، اس کا معیار شریعت ہے، وہ اپنوں اوربیگانوں کے فرق سے بالاتر ہوتا ہے، جو آدمی شریعت کی روشنی میں اچھا ہے، وہ اس کے نزدیک اچھا ہونا چاہئے اور جو شخص شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک برا ہے، وہ اس کے نزدیک بھی برا ہونا چاہئے۔ مومن کو چاہئے کہ برے لوگوں کی اصلاح کرے، نہ کہ دوسرے لوگوں کے سامنے ان سے دشمنی کا اظہار کر کے اس کے عیوب کو اچھالتا پھرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9749
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3494، ومسلم: 2526 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7337»