الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ النِّفَاقِ وَذِكْرِ الْمُنَافِقِينَ وَخِصَالِهِمْ وَذِي الْوَجْهَيْنِ باب: نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ وَلَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا مُسْتَكْبِرِينَ لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ (وَفِي رِوَايَةٍ) سُخُبٌ بِالنَّهَارِ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک منافقوں کی کچھ علامتیں ہیں، ان کے ذریعے ان کو پہچانا جاتا ہے، ان کا سلام لعنت ہوتا ہے، ان کا کھانا غصب شدہ ہوتا ہے، ان کی غنیمت چوری کی ہوئی ہوتی ہے، وہ مسجدوں کے قریب نہیں آتے، مگر ان کو چھوڑنے کے لیے، نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد نماز کے لیے آتے ہیں، وہ تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، وہ انس کرتے ہیں نہ ان سے مانوس ہوا جاتا ہے، وہ رات کو لکڑیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور دن کو شور و غل کرنے والے اور جھگڑا کرنے والے ہوتے ہیں۔