حدیث نمبر: 9747
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ وَلَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا مُسْتَكْبِرِينَ لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ (وَفِي رِوَايَةٍ) سُخُبٌ بِالنَّهَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک منافقوں کی کچھ علامتیں ہیں، ان کے ذریعے ان کو پہچانا جاتا ہے، ان کا سلام لعنت ہوتا ہے، ان کا کھانا غصب شدہ ہوتا ہے، ان کی غنیمت چوری کی ہوئی ہوتی ہے، وہ مسجدوں کے قریب نہیں آتے، مگر ان کو چھوڑنے کے لیے، نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد نماز کے لیے آتے ہیں، وہ تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، وہ انس کرتے ہیں نہ ان سے مانوس ہوا جاتا ہے، وہ رات کو لکڑیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور دن کو شور و غل کرنے والے اور جھگڑا کرنے والے ہوتے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9747
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الملك بن قدامة، وجھالة اسحاق بن بكر، أخرجه البزار: 85 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7913»