الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ النِّفَاقِ وَذِكْرِ الْمُنَافِقِينَ وَخِصَالِهِمْ وَذِي الْوَجْهَيْنِ باب: نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
حدیث نمبر: 9746
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدَكُمْ فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کو اپنا سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوا تو تم اپنے ربّ کو ناراض کر دو گے۔
وضاحت:
فوائد: … عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اگر تم منافق کو سید کہو گے تو اس سے اس کی تعظیم لازم آئے گی، حالانکہ وہ عزت و عظمت کا مستحق نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی تمہارا سید نہیں ہو سکتا، اس لیے اس کے لیےیہ لقب استعمال کرنا محض جھوٹ اور نفاق ہو گا۔ نیز اس حدیث ِ مبارکہ کا یہ مفہوم بھی درست ہو گا کہ اگر تم کسی منافق کو اپنا سید تسلیم کرو گے، تو تم پر ضروری ہو گا کہ اس کی اطاعت بھی کرو اور اگر تم نے اس کی اطاعت کی تو اپنے رب کو ناراض کر دو گے۔ ابن اثیر نے کہا: منافق کو سید نہ کہا کرو، کیونکہ اگر تم نے اس کو اپنا سید قرار دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم خود اس سے کمتر ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اس مرتبے کو پسند نہیں کرے گا۔ (عون المعبود)