حدیث نمبر: 9744
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ بِهَا مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں اگر کوئی آدمی اس قسم کی بات کرتا تو وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، اور اب میں تم سے اس قسم کی باتیں ایک ایک مجلس میں دس دس دفعہ سنتا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … غیر محتاط گفتگو سے بچنا چاہیے، بعض لوگ عام گفتگو میں انتہائی فحش گالیاں نکالتے ہیں، بعض شریعت کے ساتھ مذاق تک کر جاتے ہیں، بعض ایک دوسرے کو لعنتی اور کافر کہہ دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9744
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23667»