حدیث نمبر: 9742
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَهَذِهِ تَتْبَعُ أَمْ هَذِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق بیچارے کی مثال اس بکری کی طرح ہے، جو دو ریوڑوں کے درمیان کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے میں متردد ہو، شش و پنج کے ساتھ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی اُس ریوڑ کے ساتھ، وہ یہ نہیں جانتی کہ اس کے پیچھے چلے گی یا اُس کے پیچھے۔

وضاحت:
فوائد: … منافقین کے لیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی توہین ہے کہ ان کو مؤنث سے تشبیہ دی گئی ہے، گویا وہ مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں اور کبھی کافروں کی، کبھی مسلمانوں کا ہم نوا بننے کا دعوی کرتے ہیں اور کبھی کافروں کے ساتھ دوستی دعوے کر رہے ہوتے ہیں، لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی، حیران و پریشان ہی رہتے ہیں، نہ مسلمان ان کو اپنا سمجھتے ہیں اور نہ کافر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9742
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5079»