الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ النِّفَاقِ وَذِكْرِ الْمُنَافِقِينَ وَخِصَالِهِمْ وَذِي الْوَجْهَيْنِ باب: نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَقِيَ نَاسًا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ جَاءَ هَؤُلَاءِ فَقَالُوا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الْأَمِيرِ مَرْوَانَ قَالَ وَكُلُّ حَقٍّ رَأَيْتُمُوهُ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ وَأَعَنْتُمْ عَلَيْهِ وَكُلُّ مُنْكَرٍ رَأَيْتُمُوهُ أَنْكَرْتُمُوهُ وَرَدَدْتُمُوهُ عَلَيْهِ قَالُوا لَا وَاللَّهِ بَلْ يَقُولُ مَا يُنْكَرُ فَنَقُولُ قَدْ أَصَبْتَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ قُلْنَا قَاتَلَهُ اللَّهُ مَا أَظْلَمَهُ وَأَفْجَرَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا بِعَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ هَذَا نِفَاقًا لِمَنْ كَانَ هَكَذَا۔ محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کو ملے، وہ مروان کو مل کر باہر آ رہے تھے، انھوں نے کہا: یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم مروان امیر کے پاس سے آئے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اور تم نے وہاں جو حق دیکھا، اس کے بارے میں بات کی اور مروان کی مدد کی اور تم نے وہاں جو برائی دیکھی، اس کا انکار کیا اور مروان پر اس کا ردّ کیا؟ انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بلکہ مروان کی قابل انکار باتوں کے بارے میں بھی ہم نے کہا: تو نے درست کیا ہے، اللہ تیری اصلاح کرے، پس جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو آپس میں کہا: اللہ اس مروان کو ہلاک کرے، یہ کتنا ظالم اور برا آدمی ہے، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اس قسم کی کاروائی کو نفاق شمار کرتے تھے۔