حدیث نمبر: 9740
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ فَذَكَرُوا الْجُدُودَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتُمْ أَخْبَرْتُكُمْ جَدُّ بَنِي عَامِرٍ جَمَلٌ أَحْمَرُ أَوْ آدَمُ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فِي رَوْضَةٍ وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشَّاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا قَالَ فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَأَيْنَ جَدُّ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ لَوْ سَكَتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے اور آباء و اجداد کا تذکرہ کیا (کہ فلاں کا دادا قوی تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو بتلا دیتا ہوں، بنی عامر کا دادا تو سرخ یا گندمی رنگ کا اونٹ تھا، جو ایک باغیچے میں درخت کے پتے کھاتا تھا، غطفان کا دادا تو ایک خوفناک ٹیلہ تھا، جو لوگوں کو وہاں سے دھتکارتا تھا۔ اقرع بن حابس نے کہا: اور بنو تمیم کا دادا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ خاموش رہتا تو اچھی بات تھی۔

وضاحت:
فوائد: … علقمہ بن علاثہ نے بنو عامر کی طرف، عیینہ بن بدر نے غطفان کی طرف اور اقرع بن حابس نے بنو تمیم کی طرف نسبت کی تھی۔
ایک دن ایک لومڑ اور گیدڑ کا بحث مباحثہ ہو گیا، چونکہ لومڑ شیر کے ساتھ رہتا تھا، اس لیے اس نے شیر کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم نے فلاں کام بھی کیا، ہم نے فلاں کمال بھی دکھایا، ہم نے … …۔ گیدڑ نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا: اچھا لومڑ یہ بتاؤ کہ تم خود کون ہو، تم خود کون ہو؟ جواباً لومڑ کو کہنا پڑے گا کہ وہ تو لومڑ ہی ہے۔
باتیہ ہے کہ اگر کسی کے دادے، پڑدادے اور لکڑدادے میں کوئی کمال تھا تو اس کا پوتے اور پڑپوتے کے امتیاز سے کیا تعلق ہے، ایک دن ایک آدمی نے اپنی برادری پر ناز کرتے ہوئے اور فاخرانہ انداز میں اپنی حیثیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم وہ لوگ ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے جس کے ماموں کو اس مسند پر بٹھایا تھا، جو اس نے آصف علی زرداری کے لیے رکھی ہوئی تھی۔
اسلام کا ان امور سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام شکل و صورت،حسن و جمال اور ذات و برادری کو نہیں دیکھتا، صرف دل اور عمل کو مد نظر رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9740
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23323»