حدیث نمبر: 9737
عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعَضَّهُ وَلَمْ يَكْنِهِ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَ هَذَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا إِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ يَعْتَزِي بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلَا تَكْنُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے اور انھوں نے بات کنایۃً نہیں کی، لوگوں نے (اس گالی کی وجہ سے) تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے کہا: جو چیز تم اپنے نفس میں محسوس کر رہے ہو، میں اس کو جانتا ہوں، جبکہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کیے بغیر اس کو کہو: تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: خلیفۂ رسول سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس حدیث پر عمل کیا اور کہا: جو بندہ اپنے قبائل پر فخر کرے، تو اسے کہہ دیا کرو کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔(ابن ابی شیبہ)۔ (صحیحہ: ۲۶۹)
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کسی فرد کے اعزاز و اکرام کی بنیاد اس کے تقوی پر ہے۔ جو جتنا متقی ہو گا وہ اتناہی معزز ومکرم ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9737
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن حبان: 3153، والنسائي في الكبري : 8864 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21553»