الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفَاخُرِ بِالْآبَاءِ فِي نَّسْبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعَضَّهُ وَلَمْ يَكْنِهِ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَ هَذَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا إِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ يَعْتَزِي بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلَا تَكْنُوا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے اور انھوں نے بات کنایۃً نہیں کی، لوگوں نے (اس گالی کی وجہ سے) تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے کہا: جو چیز تم اپنے نفس میں محسوس کر رہے ہو، میں اس کو جانتا ہوں، جبکہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کیے بغیر اس کو کہو: تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کسی فرد کے اعزاز و اکرام کی بنیاد اس کے تقوی پر ہے۔ جو جتنا متقی ہو گا وہ اتناہی معزز ومکرم ہو گا۔