حدیث نمبر: 9732
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى أَبَلَّغْتُ قَالُوا بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو نضرہ سے مروی ہے کہ ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سننے والے صحابی نے اس کو بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! بیشک تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو سرخ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، مگر تقوی کی بنیاد پر، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … کاش ہم بھی اپنے تعلقات کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف کو قرار دیتے، ہمارے معاشرے میں سرمائے کی بھی اہمیت ہے، رنگت کی بھی قدر ہے، برادری ازم بھی معیار ہے، رشتہ داری بھی قابل توجہ ہے، اگر نہیں ہے تو تقوی اور پرہیزگاری کی اہمیت نہیں ہے، یعنی جو چیز اسلام میں سب سے اہم ہے، وہ ہمارے نزدیک اہم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9732
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23885»