الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفَاخُرِ بِالْآبَاءِ فِي نَّسْبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَيَدَعُنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونَنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتْنَ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ))۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور یا تو لوگ قوموں کی بنا پر فخر کرنے کو ترک کر دیں گے، یہ قومیں تو جہنم کا کوئلہ تھیں،یا پھر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے بدبودار چیزوں کو دھکیلتا ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے غرورو نخوت اور آباء و اجداد کی بنا پر فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے، اب دو ہی قسمیں رہ گئی ہیں: متقی مؤمن اور بد کردار، بد بخت سارے لوگ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔