حدیث نمبر: 9729
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخِرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں مر جانے والے آباء و اجداد پر فخر مت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بھونرا (کالا کیڑا) اپنے نتھنوں سے جس چیز کو لڑھکاتا ہے، وہ تمہارے ان آباء سے بہتر ہے، جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اپنی قوم، نسل اور آباء و اجداد کی بنا پر ناز کرنا، فخر کرنا، فوقیت جتانا، نفیس و فائق سمجھنا، برتری ثابت کرنا اور ذریعۂ امتیاز و اعزاز سمجھنا، اسلام میں اس چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر نسب کو آگے بڑھایا جائے تو تمام قومیں، قبیلے اور خاندان آدم علیہ السلام پر اکٹھے ہو جاتے ہیں، تعارف کے لیے نسل کا نام لیا جا سکتا ہے، بعض لوگوں کو اپنی برادریوں سے اچھے مزاج ملتے ہیں، ان کی وجہ سے عزت و حمیت والی اور با مقصد زندگی نصیب ہوتی ہے، ایسے مزاج پر پابند رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکرنا چاہیے، اس ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بعض قبائل اور اشخاص کی تعریف کی ہے۔
مسلمان کے لیے باعث ِ ناز چیز تقوی،پرہیزگاری اور عمل صالح ہے، جیسا کہ سابق باب کے آخر میں مذکورہ آیت سے ثابت ہو رہا ہے۔
نسب کا سب سے اعلی سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کا ہے، لیکن اخروی نجات کے سلسلے میں اس کا بھی کوئی دخل نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۵۵)والا باب۔
بھونرا: ایک کالا کیڑا ہوتا ہے، عام طور پر یہ گوبر سے چھوٹی سی گیند نما چیز بنا کر اور اس پر اگلی ٹانگیں رکھ کر اس کو لڑھکاتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9729
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2682، وابن حبان: 5775، والطبراني في الكبير : 11862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2739»