حدیث نمبر: 9724
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ أَوِ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بڑا بنایا اکڑ کر چلا، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ خوش پوشاکی، حسن و جمال، طاقت و توانائی، قدو قامت یا دوسری صلاحیتوں کی بنا پر خود پسندی، عجب پسندی، اعجابِ نفس، اکڑنا، اترا کر چلنا، اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور تکبر میں مبتلا ہونے سے اجتناب کرنا ازحد ضروری ہے، بلکہ ان احسانات سے محروم انسانیت کو مدّنظر رکھ کر ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری دنیوی ضروریات باندازِ احسن پوری کرنے کے لیے ہم پر اپنے انعامات کی بارش کر دے، لیکن ہمارے دل و دماغ کی کج روی کی وجہ وہ ہمارے لیے حفاظت ِ نفس کی بجائے وبالِ جان اور رحمت کی بجائے زحمت بن جائیں۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ ہماری شریعت میں اچھا لباس پہننے اور بالوں میں کنگھی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس آدمی کے لیےیہ امور غضب الٰہی کا موجب بن گئے، کیونکہ اس کے دماغ میں ٹیڑھ پن تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9724
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد : 549 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5995»