الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْكِبْرِ والخيلاء باب: تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9721
عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالَ الْقَوْمُ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حیان کے باپ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ملاقات ہوئی، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمامتوجہ ہوئے اور رونے لگ گئے، لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: اس چیز کی وجہ سے، جو انھوں نے مجھے بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا۔