الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْكِبْرِ والخيلاء باب: تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ وَأَنْهَاكَ عَنْ اثْنَتَيْنِ آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَذَكَرَ فَضْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَذَكَرَ فَضْلَهَا ثُمَّ قَالَ وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ)) قَالَ قُلْتُ أَوْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ قَالَ ((لَا)) قَالَ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا قَالَ ((لَا)) قَالَ الْكِبْرُ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا قَالَ ((لَا)) قَالَ أَفَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ قَالَ ((لَا)) قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ ((سَفْهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ))۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: بیشک میں تجھے ایک وصیت کرنے لگا ہوں، میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے منع کرتا ہوں، میں تجھے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، پھر اس کلمہ کی فضیلت بیان کی اور میں تجھے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ کی وصیت کرتا ہوں، پھر اس کی فضیلت کا ذکر کیا اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچانتے ہیں،یہ تکبر کیا ہے؟ کیایہ ہے کہ بندے کے اچھے جوتے ہوں اور ان کے اچھے تسمے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیایہ ہے کہ بندے کی پوشاک ہو، جس کو وہ زیب ِ تن کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا تکبر یہ ہے کہ بندے کے پاس چوپایہ ہو، جس پر سوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: کیا پھر تکبر یہ ہے کہ بندے کے ساتھی ہوں، جو اس کے ساتھ بیٹھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔