الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْكِبْرِ والخيلاء باب: تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ)) فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا وَرَأْسِي دَهِينًا وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ سَوْطِهِ أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((لَا ذَاكَ الْجَمَالُ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ))۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں ، سر پر تیل لگا ہوا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیاہو، پھر اس نے مزید کچھ اشیا کا ذکر بھی کیا،یہاں تک کہ کوڑا لٹکانے کے حلقے کی بات کی، تو کیایہ چیزیں تکبر سے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو جمال ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظر حقارت دیکھا جائے۔