حدیث نمبر: 9715
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ وَيَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنَ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النَّوْبِ فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ ((مَا هَذِهِ النَّجْوَى أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى)) قَالَ قُلْنَا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ فَرَقًا مِنْهُ فَقَالَ ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمَسِيحِ عِنْدِي)) قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ ((الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ لِمَكَانِ رَجُلٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کی باریاں مقرر کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزارتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ضرورت پڑتی تھی اور رات کو کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو ہمیں اٹھا دیتے تھے، اس طرح ثواب کی خاطر آنے والوں اور باری والوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی، ایک رات ہم گفتگو کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ سرگوشی ہو رہی ہے؟ میں نے تم کو سرگوشی سے منع نہیں کیا تھا؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور دجال سے ڈرتے ہوئے اس کی بات کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دے دوں، جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف والی ہے؟ ہم نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی،یعنی کسی آدمی کے مرتبے کی خاطر عمل کرنا۔

وضاحت:
فوائد: … مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی اور ریاکاری جیسی آزمائش کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9715
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف كثير بن زيد الاسلمي وربيح بن عبد الرحمن، أخرجه ابن ماجه: 4204 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11272»