حدیث نمبر: 9712
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ الْكِنَانِيِّ وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّمْلَةِ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِبَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ يَوْمَ قُتِلَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ يَا أَبَا الْيَمَانِ قَدِ احْتَجْتُ الْيَوْمَ إِلَى كَلَامِكَ فَقُمْ فَتَكَلَّمْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ قَامَ بِخُطْبَةٍ لَا يَلْتَمِسُ بِهَا إِلَّا رِيَاءً وَسُمْعَةً أَوْقَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقِفَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن عوف کنانی، جو کہ عمر بن عبد العزیزi کی طرف سے رملہ پر عامل تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبد الملک بن مروان کے پاس موجود تھا، اس نے عمرو بن سعید بن عاص کے قتل والے دن بشیر بن عقربہ جہنی سے کہا: اے ابو الیمان! آج مجھے تیرے کلام کی ضرورت پڑ گئی ہے، لہٰذا اٹھو اور کوئی بات کرو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو خطاب کرنے کے لیے کھڑا ہوا، جبکہ کا اس کا مقصد صرف ریاکاری اور شہرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ریاکاری اور شہرت والے مقام پر کھڑا کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ریاکاری اور شہرت والے مقام سے مراد وہ مقام ہے، جہاں اس کو ریاکاری کا بدلہ دیا جائے گا اور اس میں اس کی اس برائی کو ظاہر کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9712
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 1227 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16170»