حدیث نمبر: 9710
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ رَاءَ رَاءَ اللَّهُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مشہور کر دے گا اور جس نے (خلافِ حقیقت) نیکی کا اظہار کرنا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار کروا دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … طلبی، ریاکاری، نمودو نمائش اور دکھلاوے جیسی چیزوں کا طلبگار ہونا انتہائی کمینگی اور گھٹیا پن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دنیا میں ان کی خواہش کے مطابق مشہور کر دیتے ہیں، پھر ان کی باتیں بھی سنی جاتی ہیں اور عزت تو عزت، ان کی چاپلوسی اور خوشامد تک کی جاتی ہے، لیکن میدانِ حشر میں ذلیل ہو جائیں گے، شہرت سے مراد روزِ قیامت کی ذلت بھی ہو سکتی ہے، یعنی قیامت کے روز ان کو لوگوں کے سامنے ذلیل کیا جائے گا، اس طرح سے ان کی شہرت ہو جائے گی اور ہر ایک پر ان کا معاملہ واضح ہو جائے گا۔
مومن کو چاہئے کہ اپنے عمل میں خلوص پیدا کرے اور اس معاملے میں اچھی خاصی فکر پیدا کرے، امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔
یہ اتنے بڑے امام کی فکر اور رائے ہے، ہم کیسے فرق کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو، آمین۔ مزید ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۸۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9710
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3691 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20730»