حدیث نمبر: 9705
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ دَيْسَمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِبَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ وَمَا كَانَ اسْمُهُ بَشِيرًا فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا إِنَّ لَنَا جِيرَةً مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا تَشُذُّ لَنَا قَاصِيَةٌ إِلَّا ذَهَبُوا بِهَا وَإِنَّهَا تُخَالِفُنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَشْيَاءَ أَفَنَأْخُذُ قَالَ لَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

بنو سدوس کے دیسم نام کےایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اس آدمی کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ کوئی ایسا کام کرے، جس کا شرعی حسن یا قباحت مخفی ہو، تو اسے ایسے کام کے بارے میں کیسے علم ہو گا کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے، کیونکہ شریعت میں واضح طور پر جن امور کو نیکی اور جن امور کو برا قرار دیا گیا ہے، اس کے بارے میں لوگوں کی رائے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نیز ایسے کام کو اچھا یا برا کہنے والے لوگ سلیم الفطرت اور نیکو کار ہونے چاہئیں، جو نیکی و بدی میں شریعت کا مزاج سمجھتے ہوں۔
بنو سدوس کے دیسم نام ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9705
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ديسم في عداد المجھولين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21066»