حدیث نمبر: 9704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب میں نیکی کروں اور جب میں برائی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ میں نے نیکی یا برائی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے پڑوسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی ہے، تو تونے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی۔

وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کیراستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کے خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9704
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 4223 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3808»