حدیث نمبر: 9702
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا بَوَائِقُهُ قَالَ شَرُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ آدمی مؤمن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ آدمی صاحب ِ ایمان نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہمسایہ کہ جس کے شرور سے اس کے ہمسائے امن میں نہ ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا شر۔

وضاحت:
فوائد: … نیک پڑوسی اللہ تعالیٰ کی نعمت ِ عظمی ہے، اس سے نہ صرف آدمی کو ذہنی سکون ملتا ہے، بلکہ اس کی عزتیں محفوظ رہتی ہے، کیونکہ نیک پڑوسی دوسرے پڑوسیوں کا بھی رکھوالا ہوتا ہے، اس کے برعکس برے پڑوسی کے نقصانات اور نحوستیں عیاں ہیں، اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا چاہئے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے مصداق کے مطابق سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کییہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْئِ، وَمِنْ لَیْلَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ سَاعَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْئِ، وَمِنْ جَارِ السُّوْئِ فِیْ دَارِ الْمُقَامِ۔ … اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے دن سے، بری رات سے، بری گھڑی سے، برے ساتھی سے اور مستقل قیام گاہ کے برے پڑوسی سے۔ (صحیحہ: ۱۴۴۳ کے تحت۔ بحوالہ طبرانی)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9702
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 1/ 10 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7865»