الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ الترهيب مِنْ إِبْدَاءِ الْجَارِ وَالتَّعْلِيفِ فِيهِ باب: ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9699
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا وَصِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا قَالَ هِيَ فِي النَّارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصَلَاتِهَا وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا قَالَ هِيَ فِي الْجَنَّةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! فلاں عورت کی نماز، روزے اور صدقے کی تو بڑی مشہوری ہے، لیکن وہ زبان سے اپنے ہمسائیوں کو تکلیف دیتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کے بارے یہ بات تو کہی جاتی ہے کہ اس کے روزوں، صدقے اور نماز کی مقدار کم ہے، وہ صرف پنیر کے ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے، البتہ وہ ہمسائیوں کو تکلیف نہیں دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آج کے مفاد پرستانہ اور ابن الوقتی دور میں ہمسائیوں کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ان کے حقوق کی ادائیگی تو کجا، سرے سے ان کی شناخت ہی نہیں کی جاتی۔گلی کے ایک کونے میں صف ِ ماتم بچھی ہوتی ہے تو دوسرے کونے پہ شادی کی رسومات رقص کناں ہوتی ہیں۔ حالانکہ ان کے حقوق کا تو یہ عالم ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ((اِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَاَکْثِرْ مَائَ ھَا ثُمَّ انْظُرْ اَھْلَ بَیْتٍ مِنْ جِیْرَانِکَ، فَاَصِبْھُمْ مِنْھَا بِمَعْرُوْفٍ۔)) (مسلم) … جب تم شوربے (والا سالن) پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لیا کرو، پھر اپنے پڑوسیوں کا کوئی گھر دیکھو اور ان کو بھلائی کے ساتھ اس میں سے کچھ حصہ پہنچاؤ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَمْنَعْ جَارٌ جَارَہٗاَنْیَغْرِزَ خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کودیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ یعنی اگر کوئی ہمسایہ چھپر وغیرہ کا شہتیر اپنے ہمسائے کے مکان کی دیوار پر رکھنا چاہتا ہے تو اس کو نہیں روکا جا سکتا۔
درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی انتہائی قابل غور ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِجَارِہِ یَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذٰا لِمَ أغْلَقَ عَنِّی بَابَہُ وَمَنَعَنِیْ فَضْلَہُ۔)) … کتنے ہی پڑوسی (ایسے ہوں گے جو) اپنے پڑوسی (کے حقوق کے سلسلے میں) لٹکے ہوئے ہوں گے۔ پڑوسی کہے گا: اے میرے رب! اس سے سوال کرو کہ اس نے اپنا دروازہ مجھ سے کیوں بند کر دیا تھااور بچا ہوا مال مجھ سے کیوں روک لیا تھا۔ (الادب المفرد للبخاری: ۱۱۱، صحیحہ:۲۶۴۶)
درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی انتہائی قابل غور ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِجَارِہِ یَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذٰا لِمَ أغْلَقَ عَنِّی بَابَہُ وَمَنَعَنِیْ فَضْلَہُ۔)) … کتنے ہی پڑوسی (ایسے ہوں گے جو) اپنے پڑوسی (کے حقوق کے سلسلے میں) لٹکے ہوئے ہوں گے۔ پڑوسی کہے گا: اے میرے رب! اس سے سوال کرو کہ اس نے اپنا دروازہ مجھ سے کیوں بند کر دیا تھااور بچا ہوا مال مجھ سے کیوں روک لیا تھا۔ (الادب المفرد للبخاری: ۱۱۱، صحیحہ:۲۶۴۶)