حدیث نمبر: 9696
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَقُولُ يَا رَبِّ قُطِعْتُ يَا رَبِّ ظُلِمْتُ يَا رَبِّ أُسِيءَ إِلَيَّ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ) فَيُجِيبُهَا الرَّبُّ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكَ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رشتہ داری، رحمن کی ایک شاخ ہے، یہ قیامت کے دن آ کر کہے گی: اے میرے ربّ! مجھے کاٹ دیا گیا، اے میرے ربّ! مجھ پر ظلم کیا گیا، اے میرے ربّ ! میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا، پس اللہ تعالیٰ اس کو جواب دے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہو جائے گی کہ جس نے تجھے ملایا، میں بھی اس کو ملا لوں اور جس نے تجھے کاٹا، میں بھی اس کو کاٹ دوں۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ اکبر، کتنی سخت وعید ہے، قطع رحمی خود جرم بھی ہے اور دوسرے اعمال صالحہ کے قبولیت کے لیے رکاوٹ بھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9696
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2543، وابن حبان: 442، والحاكم: 4/ 162 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9871»