حدیث نمبر: 9695
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہرجمعرات یعنی جمعہ والی رات کو بنو آدم کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، قطع رحمی کرنے والے کا عمل قبول نہیں ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … رحم (رشتے داری) کا اس طرح بولنا اور اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کرنااللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل بات نہیں ہے، وہ ہر ایک میں قوتِ گویائی اور ادراک و شعور پیدا کرنے پر قادر ہے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو جس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، اس نے رونا شروع کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9695
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البيھقي: 7965 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10277»