حدیث نمبر: 9690
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَصَلَتْكَ رَحِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنْ اسْمِي فَمَنْ يَصِلْهَا أَصِلْهُ وَمَنْ يَقْطَعْهَا أَقْطَعْهُ فَأَبُتَّهُ أَوْ قَالَ مَنْ يَبُتَّهَا أَبُتَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبداللہ بن قارظ ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ مریض تھے، انھوں نے آگے سے اس کو کہا:صلہ رحمی تجھ تک پہنچ گئی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں۔ میں نے رحم (یعنی قرابتداری) کو پیدا کیااور اپنے نام سے اُس کا اشتقاق کیا، جس نے اُس کو ملایا میں اُس کو ملاؤں گااورجس نے اُس کو کاٹا میں اُس کو کاٹ دوں گا۔

وضاحت:
فوائد: … زندگی کا گراں مایہ متاع عزت ہے، یہ سرمایۂ حیات چھن جائے تو اس کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا، الا ماشاء اللہ۔ لہٰذا ہر مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی عزت، جان اور مال کو معزز قرار دیا گیا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُہٗوَمَالُہٗوَدَمُہٗ … بِحَسْبٍامْرِیئٍ مِّنَ الشَّرِّ اَنْ یَّحْقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ۔)) (ترمذی) … ایک مسلمان کی عزت، اس کا مال اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے … کسی آدمی کے برا ہونے کے لیےیہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9690
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 841، والحاكم: 4/ 157 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1659»