حدیث نمبر: 9681
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا قَالَ فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَيْهِنَّ مِنِّي إِذَا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبر دار! صرف چار چیزیں ہیں: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ، زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو۔ پھر سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہی ان کا سب سے بڑا حریص ہوں، کیونکہ میں نے خود ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … کبیرہ گناہوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ہیں، مثلا سات، تین، چار۔ ان میں جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کبیرہ گناہوں کو اس تعداد کے ساتھ منحصر نہیں کیا گیا، بلکہ حالات و حاضرین کے تقاضوں کے مطابق ان گناہوں کی مثالیں بیان کی گئیں، کسی مقام پر سات قسمیں بیان کرنا زیادہ مناسب تھا اور کسی مقام پر تینیا چار، وگرنہ کبیرہ گناہوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9681
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صححيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19199»